بنگلورو/نئی دہلی 6ستمبر (ایس او نیوز) ترقی پسند خیالات رکھنے والی مصنفہ گوری لنکیش کے قتل کی واردات پرمختلف سماجی وسیاسی رہنماوں نے افسوس کااظہارکیاہے ۔مرکزی وزیرڈی وی سدانندا گوڑا نے کرناٹک کی سرکردہ صحافی گوری لنکیش کے قتل کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کو لا اینڈ آرڈر کی ناکامی سے تعبیر کیا۔گوڑا جن کا تعلق کرناٹک سے ہے نے کہاکہ ریاست کی کانگریس حکومت میں کسی کی جان محفوظ نہیں ہے ۔ان کاکہناتھاکہ گذشتہ دوبرسوں میں ریاست بھرمیں کئی قتل کی وارداتیں ہوئی ہیں۔انھوں نے قتل کی اس واردات کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی نے لنکیش کے قتل کوافسوسناک قراردیاہے ۔ان کاکہناتھاکہ مہلوک کے اہل خانہ کے ساتھ پورا ملک کھڑاہے ۔انہوں نے بتایاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس سچائی کو دبانا چاہتے ہیں ،لیکن ہندوستان میں یہ ممکن نہیں ہے ۔آگے بتایا کہ خواہ کتنے ہی افراد مارے جائیں سچ کو کبھی دبایانہیں جاسکتا۔راہل گاندھی نے وزیراعلیٰ سدارامیاسے بات کی۔بعد میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سدارامیانے یقین دلایا ہے کہ اس واردات کے قصورواروں کوجلد سے جلد گرفتارکرتے ہوئے سزا دلائی جائے گی۔راہل گاندھی نے کہاکہ وزیراعظم مودی سخت گیرافراد کے خلاف اگرکوئی بیان بھی دیتے ہیں تووہ بھی ذومعنی ہوتاہے ۔
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سد ارامیانے بھی اس قتل کو جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا ہے ۔انہوں نے اسے منظم جرائم قرار دیا اور کہا کہ اس واقعہ کی مکمل جانچ کی جائے گی ۔انہوں نے مزید کہاکہ اس معاملہ کو حکومت نے کافی سنجیدگی کے ساتھ لیا ہے اور خصوصی جانچ ٹیم اس معاملہ کی جانچ کرے گی۔انہوں نے کہاکہ وہ ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سازش کا حصہ ہے ۔سدرامیا نے کہا کہ لنکیش نے ان سے حال ہی میں ملاقات کی تھی تاہم اس ملاقات میں انہوں نے ان کو مل رہی دھمکیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ترقی پسند خیالات رکھنے والے مصنفین کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے ۔کلبرگی ، پنسارے اور دابولکر کے قتل کے سلسلہ میں بھی اسی طرح کے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ تمام ترقی پسند خیالات رکھنے والے مصنفین تھے ۔سدرامیا نے گوری لنکیش کی آخری رسومات میں شرکت کی اور ان کے غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے اس واردات پر پولیس کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ میٹنگ طلب کرتے ہوئے خاطیوں کی جلد گرفتاری کی ہدایت دی۔ دوسری طرف رکن اسمبلی بی آر پٹیل،سینئر صحافی ملکارجن سی دا ناوراور نرمدابچاو آندولن کی مشہور جہد کار میدھاپاٹیکر نے بھی گوری لنکیش کے قتل کی واردات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔ پاٹیکرکاکہناہے کہ گوری سماجی مسائل خاص طور پر فرقہ واریت کے خلاف کھل کر لکھاکرتی تھیں۔ان کا کہنا تھاکہ گوری آرایس ایس اور ہندووتواکی سب سے بڑی نقادتھیں۔ دوسری طرف گوری لنکیش کے بھائی اندراجیت لنکیش کا کہنا ہے کہ انھیں اس واقعہ پر شدید دھکہ پہنچا ہے ۔لنکیش کی والدہ بھی اس خبرسے صدمہ میں ہے ۔ان کاکہناتھاکہ حملہ آوروں نے ان کی بیٹی کے سینے پر گولیاں ماری تھیں۔ ان کی بیٹی نے اپنی انکھیں عطیہ کردی تھیں۔اندراجیت نے اپنی بہن کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کی اطلاعات کومستردکردیاہے ۔ان کاکہناہے کہ یہ صرف افواہیں ہیں۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر و کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھرگے نے بھی اس واردات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ گوری لنکیش ایک بہادرخاتون صحافی تھیں۔وہ ہمیشہ نام نہاد سادھوسنتوں کے خلاف مضامین لکھاکرتی تھیں۔ کھرگے کاکہناہے کہ نظریاتی مخالفین ایسے صحافیوں کونشانہ بنارہے ہیں۔انھوں نے جلدسے جلد اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی پر زور دیا ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سے اس سلسلہ میں بات چیت بھی کی گئی ہے ۔اسی دوران لنکیش کے قتل کے بعد بنگلورومیں صحافی برادری نے احتجاج کیا۔وہ ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے اورصحافت کی آزادی کیلئے نعرے لگارہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو قتل کیاجاسکتاہے لیکن ان کی آوازکوختم نہیں کیاجاسکتا۔مظاہرے میں شامل ایک خاتون صحافی نے کہاکہ لنکیش ہمیشہ سچائی اورسیکولرزم کیلئے جدوجہدکرتی تھیں۔ لنکیش کوان اشرارنے قتل کیاجو سچائی اورانصاف سے خوف زدہ ہیں۔ریاست میں فرقہ واریت میں اضافہ ہورہاہے ۔کلبرگی کے قاتلوں کواب تک گرفتارنہیں کیاگیااس لئے آج لنکیش کوبھی ہلاک کردیاگیا۔دریں اثنا بی جے پی لیڈر ومرکزی وزیرنتن گڈکری نے دعوی کیاہیکہ گوری لنکیش کے قتل سے بی جے پی،مودی حکومت اورکسی بھی زعفرانی تنظیم کاکوئی تعلق نہیں ہے ۔انھوں نے اس قتل کی ذمہ داری کرناٹک حکومت پرعائد کی ہے ۔ان کاکہناہے کہ وزیراعظم مودی چین میں ملک کے مفادات کیلئے کام کررہے ہیں ۔انھوں نے راہل گاندھی کی جانب سے کی گئی نکتہ چینی کومستردکردیااوراس قتل کیلئے بی جے پی کو ذمہ دارقراردینے پرافسوس کا اظہار کیا ۔